Search This Blog

Showing posts with label qissa e ajmeer. Show all posts
Showing posts with label qissa e ajmeer. Show all posts

Friday, October 22, 2021

Ajmeer ka Qissa( who gain light of islam)

 ہندوستان کے شہر اجمیر میں ایک مندر تھا جو اجمیر کا سب سے بڑا مندر تھا اور صرف راجاوٴں اور رانیوں کی عبادت کیلئے مخصوص تھا مندر کے ساتھ ہی ایک تالاب تھا جس کا نام اناساگر تھا ہندستان کے ہندو اس تالاب کے پانی کو انتہائی متبرک خیال کرتے تھے ان کا عقیدہ تھا کہ جو اس تالاب میں غسل کر لے اس کے سب گناہ جھڑ جاتے ہیں کہتے ہیں اس مندر میں رات کو اتنے چراغ جلتے تھے کہ رات ساڑھے تین من تیل ان چراغوں میں استعمال ہوتا تھا ارد گرد کے کئی دیہات مندر کے نام تھے یعنی ان دیہات کی آمدن مندر پر خرچ ہوتی تھی مندر میں ہزاروں ملازمین تھے جن کا کام آنے والوں کی رہنمائی کرنا تھا کہ کونسا خدا بیٹے عطا کرنے والا ہے کونسا دیوتا صحت و تندرستی کا مالک ہے اور کس مورتی کی پوجا سے دولت مہربان ہوتی ہے 

حضرت خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ اس مندر میں تشریف لے گئے اور انا ساگر سے کچھ فاصلے پر چٹائی بچھا کر اپنے مریدوں کے ہمراہ بیٹھ گئے عصر کا وقت تقریبا ہوا ہی چاہتا تھا لہٰذا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ سے اذان دینے کا کہا کفر و شرک کے گڑھ اجمیر میں اللہ تعالی کی واحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی رسالت کا یہ پہلا اعلان تھا وہ لوگ اسلام سے مکمل طور پر لاعلم تھے چنانچہ اذان کی آواز سن کر وہاں کے لوگ حیران ہوئے اور اپنے گھروں سے نکل آئے سب مسافروں نے انا ساگر کے پانی سے وضو کیا اور نماز پڑھنا شروع کیا سب ہندو حیران رہ گئے کہ سب بھگوان تو اندر مندر میں ہیں یہ لوگ صحن میں کس بھگوان کو سجدہ کر رہے ہیں  ؟  جب شام ہوئی تو راجہ کے اونٹ جو دن میں چرنے کیلئے گئے ہوئے تھے اپنے چرواہوں کے ساتھ واپس آنے لگے اتفاق سے جہاں حضرت خواجہ معیںن الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے تھے وہ جگہ راجہ کے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی چرواہوں نے حضرت خواجہ معین الدین چشی رحمتہ اللہ علیہ سے کہا اٹھو بابا اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ خالی کرو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا  اتنا میدان پڑا ہے اونٹ تو کہیں بھی بیٹھ جائیں گے کیوں مسافروں کو تنگ کرتے ہو  ؟ 

وہ نہ مانے اور مسلسل اصرار کرتے رہے کہ اونٹ اسی جگہ بیٹھیں گے آخر انہوں نے بہت بدتمیزی سے کہا  یہ راجہ کے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور ادھر راجہ کے اونٹ ہی بیٹھیں گے تم لوگ کہیں اور ڈیرا لگاؤ آخر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اٹھتے ہوئے حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا اٹھو قطب الدین رحمتہ اللہ علیہ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے تو چلو اونٹ ہی بیٹھے رہیں یہ فرما کر آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے اٹھ گئے اگلی صبح جب اونٹوں کو چرائی کیلئے لیجانے کا وقت آیا اور چرواہوں نے اونٹوں کو اٹھانا چاہا تو انھیں پتا چلا کہ اونٹ اٹھنے کے قابل نہیں ہیں انھوں نے اونٹوں کو مار مار کر زبردستی انھیں اٹھانا چاہالیکن وہ بیٹھے ہی رہے چرواہے پریشان ہو گئے کہ جو اونٹ ان کے ایک اشارے پر اٹھ بیٹھتے تھے آج کیوں نہیں اٹھ رہے آخر انھیں یاد آیا کہ کل اس مسافر فقیر نے کہا تھا کہ چلو اونٹ ہی بیٹھے رہیں لوگ اکٹھا ہونا شروع ہو گئے، کوئی کہہ رہا تھا فقیر کوئی کامل جادوگر ہے اور کسی کا خیال ظاہر کیا کہ وہ کوئی بھگوان کا اوتار ہے  بات راجہ پرتھوی تک پہنچ گئی کہ ایک رمسافر فقیر نے راجے کے اونٹوں پر جادو کر دیا ہےگراجہ نے حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کو پیغام بھیجا کہ رتم کیسے فقیر ہو جو بے زبانوں کو باندھ رکھا ہے  ؟  یہ بیچارے بھوک پیاس سے مر جائیں گے اس لئے مہربانی کر کے اپنا جادو واپس لے لو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہم مسلمان ہیں اور مسلمان بددعا نہیں کرتے نہ ہی جادو جاو جس کے حکم سے بیٹھے تھے اسی کے حکم سے اٹھ کھڑے ہوں گے اب جو جا کر اٹھایا تو اونٹ پہلی بار پر ہی اٹھ بیٹھے ہندووٴں کی دلچسپی ان مسافروں میں بڑھنے لگی، پانچوں وقت اذان ہوتی اور نماز ادا کی جاتی آخر راجا تک یہ بات پہنچ گئی کہ کچھ فقیر آئے ہیں جو مسلمان ہیں، پانچوں وقت اذان دیتے ہیں اور ہمارے پوتر تالاب کو ہاتھ منہ دھو کر بھرشٹ کرتے ہیں اور ہمارے دھرم کے خلاف باتیں بھی کرتے ہیں، کہتے ہیں مضۓٹیہ مورتیاں پوجنے کے قابل نہیں یہ تو محض پتھر ہیں اس لئے انھیں یہاں سے اٹھایا جائے راجا نے فقیروں کو پیغام بھجوایا کہ  تم لوگ ماس گوشت کھاتے ہو ہمارے دھرم کے خلاف بولتے ہو اور تو اور ہمارے پاک تالاب کو اپنے ہاتھ ڈال کر ناپاک کرتے ہو جو ہم برداشت نہیں کر سکتے اس لئے تم لوگ یہاں سے چلے جاوٴ  حضرت خواجہ معین الدین چشی غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ  اور بھی تو اتنی دنیا آتی ہے، ہمارے پانی لے لینے سے کونسا کوئی کمی آ جائے گی  ؟ لیکن وہ کہنے لگے کہ  وہ سب ہمارے اپنے دھرم کے لوگ ہیں اور تم دوسرے دھرم کے ہو آئندہ تم لوگوں نے تالاب کو ناپاک کیا تو ہم سختی سے پیش آئیں گے  آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت قطب الدین بختیار رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا قطب الدین رحمتہ اللہ علی شاید یہ لوگ آئندہ ہمارے پانی لینے پر کوئی فساد برپا کریں جاوٴ ایک مشکیزہ پانی لے آوٴ تاکہ ضرورت کے وقت کچھ پانی تو موجود ہو لہذا حضرت قطب الدین رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے فرمایا چلو ہم مشکیزہ بھر لیتے ہیں وہ اس شرط پر مان گئے کہ  تمہارا جسم پانی سے نہ چھوئے حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ تالاب کی سیڑھیوں پر جا بیٹھے اور مشکیزہ پانی میں ڈبو دیا جب وہ بھر گیا تو حضرت قطب الدین بختیارکاکی رحمتہ اللہ علیہ نے وہ مشکیزہ اوپر کھینچا لیکن جونہی مشکیز ہ پانی سے باہر آیا، انا ساگر کا پانی خشک ہو گیاگویا سارا انا ساگر مشکیزے میں بند ہو گیا ہو انا ساگر کا خشک ہونا تھا کہ پورے اجمیر میں کہرام مچ گیا وہ رو رہے تھے کہ ہم جو گناہوں کی گٹھریاں لاتے ہیں اور انا ساگر میں غسل کر کے ان سے چھٹکارا پا لیتے ہیں اب ہم گناہوں کا بوجھ لئے کدھر جائیں گےسارے علاقے میں خبر پھیل گئی کہ مسافر فقیر نے جادو کے زور سے انا ساگر کو خشک کر دیا ہے راجہ اس نئی صورت حال سے بہت پریشان ہوا اس نے اپنے وزیروں کو بلایا سب نے یہی کہا کہ فقیر یا تو جادوگر ہے یا پھر واقعی کوئی کامل فقیر ہے ساتھ ہی وہ پریشان ہوئے کہ اجمیر کی رونق تو تھی ہی انا ساگر کے دم سے، اسی کی وجہ سے لوگ دور دور سے اجمیر آتے تھےاور اپنا ایمان تازہ کر کے لوٹتے تھےانا ساگر کے خشک ہو جانے سے ہندو دھرم کی تبلیغ کو دھچکا لگے گا اور یہی تشویش ناک بات تھی آخر طے پایا کہ فقیر سے مذاکرات کئے جائیں آخر وہ چاہتا کیا ہے اگر اسکے مطالبات معقول ہوں تو تسلیم کر لئے جائیں یا پھر سب مرد عورتیں اور بچے جا کر فقیر کی منت سماجت کریں کہ لوگوں کو پریشانی سے نجات دلاوٴ اور ہم پر کرم کرو ، ہم پاپ بوجھ اٹھائے کدھر جائیں اور کیسے سکون پائیںں یہ تجویز زیادہ آسان تھی، لہٰذا تمام لوگ بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور بولے بابا تم بھی وضو کر لیا کرنالیکن بھگوان کے واسطے ہمارا انا ساگر ہمیں لوٹا دوآپ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت قطب الدین رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا جاوٴ قطب الدین رحمتہ اللہ علیہ مشکیزہ واپس تالاب میں ڈال آوٴ جونہی مشکیزہ تالاب میں الٹا گیا انا ساگر کناروں تک اچھل آیا اس پانی نے کئی دلوں کو دھو ڈالا ہندو قوم کی اپنی تاریخی کتابوں میں بھی ہندو موٴرخ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس شام بتیس ہزار  32000  ہندو  کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے ان ہندووٴں کے مسلمان ہو جانے سے ہندو پنڈتوں اور عام ہندووٴں میں بھی غم و غصہ کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا وہ سوچ میں پڑ گئے کہ فقیر اگر کچھ دن مزید ادھر رہ گیا تو دیوی دیوتاوٴں کا تو نام لینے والا بھی کوئی نہ رہے گا لہٰذا لوگوں نے راجا کو مجبور کیا کہ جلد کچھ کیا جائے راجہ نے مندر کے بڑے پنڈت رام دیو کو بلایا اور اسے بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے مناظرہ رکھ کر جلد از جلد انھیں شکست دینے، اور اجمیر سے باہر نکال دینے کا حکم دیا، رام دیو اپنے وقت کا مانا ہوا پنڈت تھا جس کی علمی قابلیت کی دور دور تک دھوم مچی ہوئی تھی اس نے راجہ کو یقین دلایا کہ، جلد ہی راجہ کوئی اچھی خبر سنے گا رام دیو بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا اور الٹے سیدھے سوالات کرنا شروع کیا، بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے خاموشی اختیار کئے رکھی جب رام دیو نے حد سے بڑھ کر شور مچانا شروع کیا تو بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اسکی طرف آنکھ اٹھائی اور مسکرا کر فرمایا رام دیو! تو شور مچا رہا ہے اور میں تیرے ماتھے پر ایمان کا نور چمکتا دیکھ رہا ہوں  اس نگاہ اور لہجے میں جانے کیا جادو تھا کہ رام دیو قدموں پر گرا اور روتے ہوئے بولا  بابا جس دھرم کے تم ہو، اسی دھرم میں مجھے بھی شامل کر لو ؟ سب لوگ جو مناظرہ دیکھنے آئے تھے اس کایا پلٹ پر ششدر تھے اور رام دیو جو حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ  کو شکست دینے آیا تھا خود مفتوح ہو چکا تھا

حق سچ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ


Ajmeer ka Qissa( who gain light of islam)

 ہندوستان کے شہر اجمیر میں ایک مندر تھا جو اجمیر کا سب سے بڑا مندر تھا اور صرف راجاوٴں اور رانیوں کی عبادت کیلئے مخصوص تھا مندر کے ساتھ ہی ا...